بہاولپور کا پہلا ڈیجیٹل اخبار
بدھ، 13 مئی 2026
مرکزی صفحہ فیچر اسلام آباد میں امریکہ۔ایران مذاکرات: کسی معاہدے تک رسائی نہ ہو سکی
اسلام آباد میں امریکہ۔ایران مذاکرات: کسی معاہدے تک رسائی نہ ہو سکی

اسلام آباد میں امریکہ۔ایران مذاکرات: کسی معاہدے تک رسائی نہ ہو سکی

اسلام آباد( اُمیدیں ٹائمز) دارلحکومت کی پُرسکون فضا میں جب دنیا کی نظریں مرکوز تھیں، تب امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے انتہائی اہم مذاکرات بغیر کسی حتمی معاہدے کے اختتام پذیر ہو گئے۔ 11 اور 12 اپریل 2026 کی درمیانی شب تک جاری رہنے والی طویل نشستوں کے باوجود دونوں ممالک اپنے بنیادی مؤقف سے پیچھے نہ ہٹ سکے۔ یوں امید کی ایک کرن، جو چند روز قبل جنگ بندی کے اعلان کے بعد پیدا ہوئی تھی، دوبارہ غیر یقینی صورتحال میں ڈوب گئی۔

اسلام آباد میں امریکہ۔ایران مذاکرات: کسی معاہدے تک رسائی نہ ہو سکیاسلام آباد میں امریکہ۔ایران مذاکرات

یہ بحران کسی ایک دن یا ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط کشیدگی کی نئی شکل ہے، جس نے فروری 2026 میں ایک کھلی جنگ کی صورت اختیار کر لی۔ 28 فروری کی رات جب خلیج فارس کی فضاؤں میں اچانک دھماکوں کی آوازیں گونجیں تو دنیا کو احساس ہوا کہ صورتحال اب سفارتکاری کے دائرے سے نکل کر میدانِ جنگ میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران کی حساس عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس میں میزائل بیسز اور کمانڈ سینٹرز شامل تھے۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں متعدد فوجی اہلکار ہلاک اور انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔

چند ہی دن بعد، 7 مارچ کو، ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ ایران کے جنوبی علاقے میں ایک تعلیمی ادارے کے قریب ہونے والے حملے میں کم عمر طالبات جاں بحق ہوئیں۔ تہران نے اس واقعے کو امریکی جارحیت قرار دیا، جبکہ واشنگٹن نے اس الزام کی تردید کی۔ تاہم، اس واقعے نے خطے میں غم و غصے کی ایک نئی لہر پیدا کر دی اور ایران نے کھل کر جوابی کارروائی کا اعلان کر دیا۔

10 مارچ کی صبح سورج نکلنے سے پہلے ہی ایران نے اپنی پہلی بڑی جوابی کارروائی کی۔ خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے میزائلوں اور ڈرونز کی زد میں آ گئے۔ قطر اور بحرین میں واقع تنصیبات پر حملوں کی اطلاعات آئیں، جہاں دھماکوں کے بعد دھوئیں کے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔ اگرچہ کئی میزائل دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیے، لیکن کچھ اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے، جس سے جانی و مالی نقصان ہوا۔

اسلام آباد میں امریکہ۔ایران مذاکرات: کسی معاہدے تک رسائی نہ ہو سکے

اس کے بعد جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی۔ 12 مارچ سے ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دیں۔ یہ وہ آبی راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل سپلائی گزرتی ہے۔ چند ہی دنوں میں درجنوں تجارتی اور تیل بردار جہاز متاثر ہوئے۔ 19 مارچ کو امریکہ نے ایک بڑے بحری آپریشن کا آغاز کیا تاکہ اس راستے کو دوبارہ کھولا جا سکے، مگر صورتحال مزید بگڑتی چلی گئی۔

مارچ کے آخری ہفتے تک خلیج کا خطہ ایک فعال جنگی زون بن چکا تھا۔ 31 مارچ کو دبئی کے قریب ایک آئل ٹینکر پر حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، جس کی ویڈیوز عالمی میڈیا پر گردش کرتی رہیں۔ اپریل کے آغاز تک عالمی تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ چکی تھیں، اور کئی ممالک میں ایندھن کا بحران سر اٹھانے لگا تھا۔

اس تمام صورتحال میں ناجائز ریاست اسرائیل کا کردار بھی نمایاں رہا، جس نے امریکہ کی کھل کر حمایت کی اور خطے میں انٹیلیجنس اور عسکری تعاون فراہم کیا۔ ایران نے متعدد بار اس کردار کو جنگ کے پھیلاؤ کا سبب قرار دیا۔

جب جنگ اپنے عروج پر تھی، تب 7 اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی کا اعلان سامنے آیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب پاکستان نے اپنی سفارتی کوششیں تیز کیں اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد کو اس مقصد کے لیے منتخب کیا جانا پاکستان کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھا گیا۔

11 اپریل کی صبح اسلام آباد ایک مختلف منظر پیش کر رہا تھا۔ شہر کے اہم راستوں پر سکیورٹی ہائی الرٹ تھی، پاک فوج اور رینجرز کے دستے تعینات تھے، جبکہ فضائی نگرانی کے لیے ڈرونز مسلسل پرواز کر رہے تھے۔ اسلام آباد کے ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے صحافیوں کے لیے جناح کنونشن سینٹر میں ایک خصوصی میڈیا سنٹر قائم کیا گیا تھا، جہاں لمحہ بہ لمحہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی تھی۔

اسلام آباد میں امریکہ۔ایران مذاکرات: کسی معاہدے تک رسائی نہ ہو سکے

امریکی وفد خصوصی طیارے کے ذریعے نور خان ایئربیس پہنچا، جہاں سے سخت سکیورٹی حصار میں انہیں مذاکراتی مقام تک منتقل کیا گیا۔ ایرانی وفد کی آمد بھی اسی طرح خاموشی مگر مکمل پروٹوکول کے ساتھ ہوئی۔ وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام نے دونوں وفود کا استقبال کیا، جبکہ پسِ پردہ سفارتی سرگرمیاں جاری رہیں۔

مذاکرات کا آغاز دوپہر کے وقت ایک بڑے کانفرنس ہال میں ہوا، جہاں ابتدائی جملوں میں ہی دونوں جانب کی سنجیدگی واضح ہو گئی۔ امریکہ نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا، جبکہ ایران نے سختی سے کہا کہ جب تک اقتصادی پابندیاں ختم نہیں ہوتیں اور خطے سے امریکی افواج کا انخلا نہیں ہوتا، کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔

رات گہری ہوتی گئی، مگر مذاکرات کی میز پر موجود فاصلہ کم نہ ہو سکا۔ وقفے وقفے سے ہونے والی مشاورتوں کے باوجود اختلافات برقرار رہے۔ بالآخر 12 اپریل کی صبح یہ اعلان کیا گیا کہ مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، تاہم بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے اس سارے عمل میں نہ صرف ایک میزبان بلکہ ایک سنجیدہ ثالث کا کردار ادا کیا، اور عالمی سطح پر ایک مثبت اور ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے اپنی پہچان کو مزید مضبوط کیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے بادل ابھی چھٹے نہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ اگر مذاکرات کا یہ سلسلہ جاری رہتا ہے تو ممکن ہے کہ کشیدگی میں کمی آ جائے، لیکن اگر کسی بھی فریق نے دوبارہ طاقت کے استعمال کا راستہ اختیار کیا تو یہ تنازع پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کی صورت میں عالمی معیشت ایک شدید بحران سے دوچار ہو سکتی ہے، جس کے اثرات ہر ملک تک پہنچیں گے۔

اسلام آباد کی یہ ملاقات شاید تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر یاد رکھی جائے — ایک ایسا لمحہ جہاں دنیا جنگ اور امن کے درمیان کھڑی تھی، مگر فیصلہ ابھی باقی ہے۔

Umeedain Times

ہفت روزہ اُمیدیں ٹائمز بہاولپور سے شائع ہونیوالا بہاولپور کا پہلا انٹرنیٹ پر دستیاب ڈیجیٹل اخبار ہے جو پاکستان سمیت دنیا بھر میں اردو پڑ ھنے اور سمجھنے والوں میں مقبول ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *