داتا دربار لاہور کے قریب خودکش حملہ 71

داتا دربار لاہور کے قریب خود کش حملہ کی رپورٹ

لاہور: (اُمیدیں ٹائمز) داتا دربار کے باہر پولیس ناکے پر دھماکے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 10 افراد شہید جبکہ 30 افراد زخمی ہوئے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ خودکش تھا۔

 پولیس کے مطابق دھماکا ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب ہوا، ایلیٹ فورس کی گاڑی داتا دربار کے گیٹ نمبر دو کے قریب کھڑی تھی، دھماکے سے ایلیٹ فورس کی گاڑی مکمل تباہ ہوگئی۔

دھماکے میں شہید ہونے والوں میں 5 پولیس اہلکار، ایک سیکیورٹی گارڈ اور ایک راہگیر شامل ہیں۔ داتا دربار کے داخلی و خارجی دروازے بند کر دیئے گئے ہیں، زخمیوں کو میو ہسپتال لایا گیا ہے جہاں متعدد زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

 خودکش بمبار نے 8 بج کر 54 منٹ پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کو نشانہ بنایا، سیف سٹی کیمرے سے دہشت گرد کی نشاندہی ہو گئی۔ وزیراعلی پنجاب کو اعلیٰ سطح اجلاس میں فوٹیج دکھا دی گئی۔

 شلوار قمیص میں ملبوس، پاؤں میں سینڈل پہنے 15، 16 سالہ خودکش بمبار داتا دربار سے متصل گلی سے باہر آیا، ناکے پر کھڑی ایلیٹ فورس کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ کے قریب پہنچ کر اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔ گاڑی داتا دربار کے گیٹ نمبر دو کے سامنے سیکیورٹی پر مامور تھی۔

 دھماکا ہوتے ہی گاڑی تباہ ہو گئی، ہر طرف دھواں پھیل گیا اور افرا تفری مچ گئی۔ دھماکے کے بعد داتا دربار کے داخلی اور خارجی دروازے بند کر دیئے گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس اور فرانزک ٹیم نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکھٹے کئے، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا، افسوس ناک واقعے کے پیش نظر ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ اور ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

 آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز نے میڈیا کو بتایا خود کش بمبار نے خود کو پولیس کی گاڑی کے قریب اڑایا ورنہ زیادہ نقصان ہو سکتا تھا۔ ادھر محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبے بھر کی مساجد، امام بارگاہوں، مدارس، پنجاب سول سیکرٹیریٹ، پی اینڈ ڈی پنجاب، لاہور ہائی کورٹ سمیت اہم ترین مقامات پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کرنے کی ہدایات کی ہیں۔

 صدر مملکت عارف علوی نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا بم دھماکے دہشتگردوں کی بزدلانہ کارروائی اور شکست خوردہ ذہنیت ہے، دہشتگرد امن کوثبوتاژ کر کے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔

 وزیر خارجہ شاہ محمودقریشی نے ذمہ داروں کو جلد کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔ معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا ریاست نے دہشتگردوں کے سامنے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے، ہمارا عزم ہے کہ دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنا ہے۔

مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے امن و امان کی بگڑتی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا اس نوعیت کی وارداتیں کرنے والے پاکستان اور اسلام دشمن ہیں، پوری قوم ان کے خلاف متحد ہے۔

بلاول بھٹو زردای نے داتا دربار دھماکے میں ملوث درندوں کو گرفت میں لانے کا مطالبہ کیا۔ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ملک دشمن عناصر پاکستان میں بد امنی اور خوف پھیلانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا وہ حملے میں شہید ہونے والے افراد کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں