نہ اسمبلی ہوگی نہ تفریخ، تعلیمی اداروں کیلئے قانون تیار 84

نہ اسمبلی ہوگی نہ تفریخ، تعلیمی اداروں کیلئے قانون تیار

لاہور (اُمیدیں ٹائمز) ملک بھر میں کورونا وائرس کے پیش نظر تعلیمی ادارے بند ہیں اور آن لائن کلاسز کی وجہ سے طلبہ و طالبات بہت پریشان ہیں۔ کئی علاقوں میں سگنل اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کا بھی سامنا ہے۔

دوسری طرف پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی طرف سے بھی تعلیمی ادارے کھولنے کا شدید مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ملک میں اب کورونا وائرس کی وبا پر سمارٹ لاک ڈائون کی وجہ سے قابو پالیا گیا ہے جس کے پیش نظر پنجاب میں بھی تعلیمی ادارے کھولنے کے فیصلے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب میں تعلیمی اداروں کیلئے سخت ایس او پیز بنائے گئے ہیں جن کا اطلاق تمام پرائیویٹ اور سرکاری تعلیمی اداروں پر ہوگا۔ ان ایس او پیز کے مطابق اسکول میں اسمبلی نہیں ہوگی اور نہ ہی تفریح کیلئے بریک دی جائے گی۔ اسکول اور بالخصوص واش رومز میں ڈس انفیکشن اسپرے باقاعدگی سے ہوگا۔

ایک بینچ پر تین بچوں کو بٹھانے کی اجازت بھی نہ ہوگی اور ایک کلاس میں صرف 20 بچے بٹھانے کی اجازت ہوگی۔

طلبہ و طالبات آپس میں یا اساتذہ کیساتھ پین ، کاغذ، پینسل، ربڑ وغیرہ کا تبادلہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی ایک دوسرے کو ہاتھ ملا سکتے ہیں۔

کلاس میں صرف تین مضامین پڑھائے جائیں گے جس میں ریاضی، انگریزی اور سائنس شامل ہیں جبکہ باقی مضامین کا صرف ہوم ورک دیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں