دی سیکریٹ کتاب کا تجزیہ 285

دی سیکریٹ کتاب کا تجزیہ

دی سیکریٹ ایک ایسی کتاب ہے جس میں یہ کشش کے قانون کو زیر بحث لایا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ اس قانون کو کس طرح اپنی عام زندگی میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کتاب میں ایسے بہت سے لوگوں کو متعارف کروایا گیا ہے جنہوں نے اس قانون پر عمل کر کے اپنے مقصد کے حصول کو یقینی بنایا ہے۔ ایسے تمام لوگوں کی رائے اور اپنی زندگی سے حاصل کیے جانیوالے تجربات شامل ہیں۔
دی سیکریٹ کتاب میں ایسے بہت سے آئیڈیاز ہے جو حیران کن ہیں۔ جیسے کہ اگر آپ اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس بات کو یقین کریں کہ آپ حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایسا محسوس کریں جیسا آپ کر چکے ہیں۔ اپنے ذہن میں یہ تصور کریں کہ آپ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔
اگر آپ اس بات پر فوکس کریں جو آپ نہیں چاہتے تو درحقیقت آپ کشش کے قانون سے اس کو اپنی جانب اٹریکٹ کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ ایسی بات پر فوکس رکھیں گے جو آپ کے سٹریس کا سبب ہے تو آپ مزید ایسے حالات کا سامنا کریں گے جو سٹریس کا سبب بنیں۔ بجائے اس کے آپ کو ایسی باتوں کو سوچنا چاہئے جو آپ چاہتے ہیں۔
کشش کا قانون ایک ایسا اصول ہے جس میں آپ اپنی توانائی جن اچھی اور بری چیزوں پر استعامل کرتے ہیں وہی آپ کی زندگی میں ہونے لگتا ہے۔ چاہے وہ اپکی ملکیتی، تعلقات، مقاصد اور صحت ہی کیوں نہ ہو۔
اس کتاب کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ آپ کو اس بات کی یاددہانی کراتی ہے کہ آپ اپنے حالات بدل سکتے ہیں چاہے موجودہ کیفیت کیسی بھی ہو۔ اور تصورات پر اختیار کے حوالے سےمکمل تحقیق شامل ہے۔
دی سیکریٹ کتاب لوگوں کو انکریج کرتی ہے کہ وہ زندگی میں جو مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں اس کو تصور میں لائیں اور یقین کریں کہ درحقیقت مقصد حاصل کر چکے ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ آپ کہاں ہیں اور کہاں جانا چاہتے ہیں لیکن خود پر یقین کرنا مقصد کے ھصول کی چابی ہے۔
یہ کتاب اس بات کیلئے بھی انکریج کرتی ہے کہ اپنے مقصد کا فریم اپنے ذہن میں تیار کریں اور آپ کا ذہن مقصد کے حصول کیلئے ذرائع اور تراکیب خود بخود آپ کو بتائے گا جس پر عمل پیرا ہو کر اپنے اپنے تصور کو حقیقت کی شکل دے سکتے ہیں۔
اس کتاب سے کافی تنازعات بھی پیدا ہوئے ہیں جیسا کہ کچھ عیسائیوں کو اس میں مذہب کے حوالے سے تنازعات نظر آتے ہیں۔ اس کتاب میں اس بات کا تذکرہ بھی ہے کہ آپ مہنگی کار اور پرآسائش گھر وغیرہ بھی کشش کا قانون استعمال کرتے ہوئے حاصل کر سکتے ہیں جبکہ مذہبی اعتبار سے میٹیریل چیزوں پر فوکس پر تنقید کی گئی ہے۔
کچھ لوگوں نے اس خیال پر بھی تنقید کی ہے کہ ہم اپنے حالات کے ذمہ دار اپنی سوچ کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ جبکہ جو لوگ پیدا ہی غریب گھرانے میں ہوئے یا جن میں پیدائشی نقص ہے ایسے میں انکے حالات میں انکا اپنا یا انکی سوچ کوئی قصور نہیں ہے۔
کشش کا قانون اپنے آپ میں ہی ایک تنازعہ ہے کیونکہ یہ قانون سائنسی بنیادوں پر ثابت شدہ نہیں ہے۔
دی سیکریٹ کتاب میں جاری کیا جانے والا کشش کے قانون کا پیغام ہے کہ اپنی دنیا خود بنائیں۔ کیونکہ اس کتاب میں ایکسیڈنٹ، بیماریوں اور زندگی کے دیگر بڑے مسائل کو چیلنج کیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں انسان اپنے وجود کو بھی الزام دے سکتا ہے۔
چیلنجز زندگی کا حصہ ہیں اور ان کا سامنا کرنے سے ہم مزید مضبوط ہوتے ہیں۔ اس لیئے کسی بھی وجہ سے خود کو الزام دینا مددگار نہ ہوگا۔ تاہم، ہم اس کے مثبت پہلوئوں کو اپنا کر اپنا سٹریس دور کرنے کیلئے اس کتاب کی مدد لے سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں