ایس ایچ او کا کاروائی سے انکار، متاثرہ خاتون ڈی پی او آفس پہنچ گئی 93

ایس ایچ او کا کاروائی سے انکار، متاثرہ خاتون ڈی پی او آفس پہنچ گئی

بہاول پور(اُمیدیں ٹائمز) متاثرہ خاتون کی درخواست پر ایس ایچ او مسافر خانہ نے کاروائی کرنے سے انکار کردیا ۔ خاتون ڈی پی او بہاولپور کی کھلی کچہری میں پیش ہوگئی ۔ ڈی پی او نے ایس ایچ او مسافر خانہ کو خاتون کو سماعت کرکے کاروائی کرنے کا حکم دے دیا ۔

اگر ایس ایچ او کاروائی نہ کرے تو دوبارہ کھلی کچہری میں آجاءو ۔ ڈی پی او ۔

تفصیل کے مطابق موضع غلاموں آرائیں بہاولپور کی رہائشی خاتون گھاس جنتر کو چکر لگانے گئی تو دیکھا کہ محمد بشیر ،محمد اکرم ،محمد الطاف پسران محمد شریف ،محمد شفیع، عبدالمالک ، محمد افتخار مسلح سوٹیاں ڈنڈے کھڑے تھے ۔ محمد بشیر گھاس کاٹ رہا تھا ۔ بقیہ ملزمان بھی اپنی فصل کپاس کو پانی چوری کرکے لگار ہے تھے ۔

سائلا نے منع کیا لیکن ملزمان نے سائلا کو گالی گلوچ کی مجھے تھپڑ مکے مارے اور میرا گریبان پکڑ لیا سائلا کی پوشیدنی قمیض پھٹنے سے برہنہ ہوگئی ملزم شفیع مجھے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتا رہا اور میرے بال سرسے جدا کردیئے ۔

ملزمان نے مجھے درانتی سے زخمی کردیا ۔ میرے شورواویلا پر لوگ آگئے ملزمان سے میری جان چھڑائی ایس ایچ ا و مسافر خان نے میری کاروائی کرنے سے انکار کردیا ڈی پی او نے ایس ایچ او کو کاروائی کا حکم دے دیا ۔

ڈی پی او محمد فیصل کامران کی کھلی کچہری، ہفتہ کے پہلے روز کثیر تعداد میں شہریوں کی شرکت ۔ معذور شہری کا مسئلہ اس کے پاس جا کر سنا ۔

ڈی پی اونے خود انکوائری کرنے اور انصاف کی یقین دہانی کرائی، بروقت انصاف اور میرٹ پر مسائل کا حل ہی پولیس کا فرض ہے ۔ پولیس کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ لوکل لیول پر انصاف کی فراہمی اصل ریلیف ہے ۔ ڈی پی او ۔ تفصیلات کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس پنجاب انعام غنی اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس جنوبی پنجاب کیپٹن (ر) ظفر اقبال اعوان کی اوپن ڈور پالیسی کا تحت ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد فیصل کامران نے ہفتے کے پہلے کے روز اپنے دفتر میں کھلی کچہری کا تسلسل جاری رکھا،جس میں 61 شہریوں نے درخواستیں پیش کیں ۔

شہری محمد افضل ایک ٹانگ سے معذور تھا انصاف لینے ڈی پی او آفس پہنچا اور اپنا مسئلہ بیان کیا ۔ جس پر ڈی پی او خود روسٹرم چھوڑ کر اس کے پاس گئے اس کا احوال دریافت کیا، اور اس کی بات تسلی سے سنی ۔ ڈی پی او نے خود اس معاملے کی انکوائری کرنے اور انصاف مہیا کرنے کی مکمل یقین دہانی کرائی ۔

شہری کا کہنا تھا کہ میری بات پوری توجہ سے سنی گئی اورمجھے تسلی دی،ہم شہری ہونے کی حیثیت سے محفوظ اور اطمینان محسوس کرتے ہیں کہ پولیس کی قیادت ایسے ہاتھوں میں ہے جو کہ تمام شہریوں کو یکساں پروٹوکول فراہم کرتے ہیں ۔ ڈی پی او نے دیگر درخواستوں پر بھی تمام متعلقہ افسران کو آن کال لیتے ہوئے کارروائی کا حکم دیا ۔

ڈی پی او نے موٹر سائیکل چوری کے مقدمات میں متعلقہ پولیس افسران کو ریکوری اور تفتیش میرٹ پر کرتے ہوئے سابقہ ریکارڈ یافتہ، جیل سے رہا ہونے والے ملزمان اور دیگر ایسی شہرت کے حامل افراد کو شامل تفتیش کرنے اور واپسی رپورٹ بھجوانے کی ہدایات جاری کیں ۔ اس موقع پر ڈی پی او محمد فیصل کامران نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بروقت انصاف اور میرٹ پر مسائل کا حل ہی پولیس کا فرض ہے ۔

پولیس کو واضح ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ لوکل لیول پر معاملات کا حل ہوگا تو ہی شہریوں کو حقیقی ریلیف مل پائے گا ۔ جس کیلئے روزانہ کی بنیاد پر ریسپانس اور شہریوں سے اس کا فیڈ بیک بھی لیا جاتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں